نوبل انعام یافتہ بھارتی پروفیسر نے مسئلہ کشمیر پر مودی کی مخالفت کردی

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کے خلاف خود بھارت کا پڑھا لکھا باشعور طبقہ بھی آواز اٹھانے لگا۔

معروف دانشوراورنوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے مودی سرکارکے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت طاقت کے بل بوتے پرکشمیرمیں برطانوی سامراجی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔۔

معروف دانشور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات نے بھارتی شہری ہونے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرکی سرزمین کشمیریوں کی ہے۔

سماجی رہنما کویتا کرشنن کےبعد امرتیہ سین اپنی حکومت کے غیرآئینی اقدامات کیخلاف آواز اٹھانے والے دوسرے دانشور ہیں۔

پچاسی سالہ بھارتی پروفیسرامرتیہ سین نے اپنی حکومت کو واشگاف الفاظ میں پیغام دیا کہ کشمیراوروہاں کی سرزمین کشمیریوں کی ہے۔ بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ حکومت طاقت کے بل بوتے پر انسانی حقوق کی سنگین پامالی کررہی ہے۔

امرتیہ سین نے کشمیری قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوریت کےبغیر کشمیر کے حالات میں تبدیلی لانا ممکن نہیں۔ ایک ہندوستانی کےناطےاس بات پرفخرنہیں کہ بھارت اپنی جمہوری ساکھ کھوچکاہے ۔

پروفیسرسین نےانٹرویو میں مزید کہا کہ نوآبادیاتی قبضے کا بدترین بہانہ ہے ۔انگریزوں نے ہندوستان کو دوسوسال اسی نظام کے تحت چلایا۔ جب بھارت نے خود آزادی حاصل کی تو اب دوسری ریاستوں کو بھی ان کا حق ملنا چاہئے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں