آزادی مارچ کو ڈی چوک آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، وزیراعظم کا دوٹوک اعلان

اسلام آباد (این پی پی) وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویزخٹک کو دو‌ٹوک الفاظ میں کہا ہے مارچ کوڈی چوک آنے کی اجازت نہیں دے سکتے،عدالتی فیصلوں سےانحراف نہیں کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویزخٹک نے وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن سے مذاکرات سے آگاہ کیا ، جس پر عمران خان نے پرویزخٹک کو صاف صاف کہا کہ مارچ کوڈی چوک آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، عدالتی فیصلوں سے انحراف نہیں کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن انتشارچاہتی ہے، حکومت امن وامان قائم رکھنے کی ذمہ داری پوری کرے گی، حکومت نے بات چیت سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ،انتشار کی کوشش کی گئی تو ریاست ذمہ داری پوری کرے گی۔
گذشتہ روز حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے پرویز خٹک کی قیادت میں رہبر کمیٹی کے اراکین سے اکرم درانی کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی ، جس میں دھرنے اور آزادی مارچ سے متعلق مطالبات پر غور کیا گیا تھا۔
مذاکرات کے دو دور ہوئے، ایک دور میں اپوزیشن کی جانب سے چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا جس میں وزیر اعظم کے مستعفیٰ ہونے، نئے انتخابات کرانے، عوامی حقوق کی بالادستی اور آزادی مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالنا شامل تھا۔
بعد ازاں کومتی کمیٹی اوررہبرکمیٹی کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے ، حکومت نے پریڈ گراؤنڈ کیلئے احتجاج کی پیشکش کی تھی ، جو رہبرکمیٹی نےنہ مانی رہبرکمیٹی نے پریڈگراؤنڈ تک احتجاج محدود رکھنے کی یقین دہانی سے بھی انکار کردیا تھا۔
حکومتی کمیٹی نے رہبرکمیٹی کو وزارت داخلہ کے تھریٹ الرٹ سے آگاہ کیا، حکومتی کمیٹی نے رہبرکمیٹی سے کہا تھا کہ ڈنڈا بردار فورس نہ لے کر آئیں لیکن رہبر کمیٹی نے ڈنڈا بردار فورس نہ لے کر آنے اور عدالت کے متعین جگہوں تک احتجاج محدود رکھنے کی یقین دہانی سے بھی انکار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں