ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ بر قرار

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا

منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور زیرِ نگرانی یعنی ‘گرے لسٹ’ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادارے کے صدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان 27 میں سے 21 سفارشات پر عمل کر رہا ہے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی اور اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق اب پاکستان کو فروری 2021 تک ان تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے جن پر تاحال کام نہیں ہو سکا۔اس بات کا فیصلہ ادارے کے تین روزہ اجلاس میں کیا گیا جو جمعے کو اختتام پذیر ہوا۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے یہ اجلاس آن لائن منعقد کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران پاکستان کے حکام کی طرف سے دہشتگردی میں ملوث گروہوں کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائی اور انھیں معاشی مدد فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے سربراہ مارکس پلیئر نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کو ادارے کی جن 27 سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کہا گیا تھا ان میں سے 21 سفارشات پر عمل ہو رہا ہے تاہم جب تک پاکستان باقی چھ سفارشات پر عملدرآمد نہیں کرتا اس کا درجہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یقیناً اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے لیکن اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ رک نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ اس وقت تک نہیں ٹلا جب تک وہ ان چھ اہم سفارشات پر عملدرآمد نہیں کر لیتا جن پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے فیصلے سے قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ادارے کو پاکستان کے اقدامات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے گنجائش نکالنی چاہیے۔شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ‘ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27 اقدامات کرنے کا کہا تھا جس میں سے 21 پر سو فیصد عملدرآمد ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بقیہ چھ اقدامات رہ گئے ہیں حکومت ان پر بھی کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں سمجھتا ہو کے ایف اے ٹی ایف کو اس کو اقدامات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لیے گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔’

پاکستان کی کوشش ہے کہ اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے لیکن اس کی یہ کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں جبکہ انڈیا کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے کیونکہ انڈیا کا الزام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے۔

اس بارے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک چیز بڑی واضح دکھائی دے رہی ہے کہ انڈیا کے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے جو عزائم تھے اس میں وہ ناکام ہو گا۔ دنیا آج پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات پر قائل ہو چکی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے معاملات کو جانچنے کے لیے موجودہ حکومت اور پارلیمان نے جو قانونی سازی کی ہے اور انتظامی اقدامات اٹھائے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔‘

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے اکتوبر 2019 تک کا وقت دیا گیا تھا جس میں بعدازاں چار مہینے کی توسیع کر دی گئی تھی۔ پاکستان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دی گئی اس مہلت کے دوران ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام تیار کر لے گا۔

فروری 2020 تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات میں سے صرف 14 پر عمل کیا تھا اور باقی رہ جانے والی 13 سفارشات پوری کرنے کے لیے اسے مزید چار ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔

21 سے 23 اکتوبر 2020 تک ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے منی لانڈرنگ کا جائزہ لینے والے ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

FATF PAKISTAN STILL ARRIVED IN GRAY LIST 2020

اپنا تبصرہ بھیجیں