سی پیک بل قومی اسمبلی میں پیش ، چیئرپرسن چار سال کے لیے مقرر ہوگا

اسلام آباد: (29 اکتوبر 2020) سی پیک اتھارٹی بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا بل کے تحت اتھارٹی وفاقی،صوبائی اور لوکل گورنمنٹ سے مدد کے سکے گی۔ سی پیک اتھارٹی مکمل بااختیار ہوگی اور چیئرپرسن سمیت تمام ملازمین سول تصور نہیں ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف اور محسن داوڑ کو بل پر بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا تو وقفہ سوالات موخر کرنے کی تحریک پیش کرکے پاک چین اقتصادی راہداری اتھارٹی بل 2020 بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا جبکہ قومی اسمبلی میں بل کی کاپیاں نہ دینے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا۔ سی پیک اتھارٹی بل پر ڈپٹی اسپیکر نے محسن داوڑ اور خواجہ آصف کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔

سی پیک اتھارٹی بل 2020 کے مندرجات کے مطابق اتھارٹی چیئرپرسن سمیت 6 اراکین پر مشتمل ہوگی۔ وزیراعظم کی منظوری سے کسی شخص کو بھی اتھارٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سی پیک اتھارٹی کا چیئرپرسن چار سال کے لیے مقرر ہوگا۔ چیئرپرسن کی مدت ملازمت میں ایک مرتبہ چار سال کے لیے توسیع ہو سکے گی۔ اتھارٹی کے اراکین کا تقرر بھی چار سال کے لیے ہوگا۔

وزیراعظم چیئرپرسن سمیت کسی بھی عہدیدار کو نااہلیت، غلط روی پر برطرف کر سکے گا۔ اتھارٹی کے فیصلے اکثریت رائے سے ہوں گے۔ اتھارٹی کے چیئرمین سمیت دیگر ملازمین سول ملازمین تصور نہیں کیئے جائیں گے۔ اتھارٹی ملک بھر میں تمام وفاقی، صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کے اداروں سے مدد لے سکیں گے۔ چیئرمین اور اتھارٹی کے دیگر ارکان دو بار چار چار سال کے لیئے ملازمت کے اہل ہوں گے۔ سی پیک اتھارٹی کے تمام فیصلے ایکٹ کے طور پر درست سمجھے جائیں گے۔

c pak bill exept in assembly

اپنا تبصرہ بھیجیں