دورہ نیوزی لینڈ کے لیے 35 رکنی اسکواڈ کا اعلان ، سرفراز کی واپسی

پاکستان نے دورہ نیوزی لینڈ کے لیے 35 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے جس میں سابق کپتان سرفراز احمد کی واپسی ہوئی ہے جبکہ تجربہ کار بلے باز اسد شفیق اور فاسٹ باؤلر محمد عامر کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔

آئندہ ماہ دورہ نیوزی لینڈ کے لیے کورونا وائرس کی وجہ سے بڑے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان بلے باز ذیشان ملک، عمران بٹ اور آل راؤنڈر دانش عزیز اور عماد بٹ دورہ نیوزی لینڈ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ زمبابوے کے خلاف ٹی20 سیریز میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عثمان قادر اور عبداللہ شفیق کے ساتھ ساتھ نوجوان وکٹ کیپر بیٹسمین روحیل نذیر بھی دورہ نیوزی لینڈ کے لیے قومی اسکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 کے باعث ہمیں نیوزی لینڈ میں 14 روزہ قرنطینہ کی مدت پوری کرنی ہے، دورہ نیوزی لینڈ کے لیے ہم نے دو مختلف ٹیموں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈ تشکیل دیا ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن میں شامل نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز ہمارے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں، اُمید ہے کہ قومی کھلاڑی عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف بہتر کھیل کا مظاہرہ کریں گے۔

چیف سلیکٹر نے عماد بٹ، دانش عزیز، عمران بٹ اور روحیل نذیر جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو دورہ نیوزی لینڈ کے لیے اسکواڈ میں شمولیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں کی قابلیت اور تکنیکی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کھلاڑی قومی کرکٹ ٹیم کی بینچ اسٹرینتھ ہیں اور انہیں اسی لیے دیگر چند کھلاڑیوں کی طرح خصوصی طور پر پاکستان شاہینز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔اس موقع پر مصباح الحق نے اسد شفیق کو دورے سے ڈراپ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیرتسلی بخش بیٹنگ فارم کے باعث تجربہ کار بلے باز کو اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا لیکن کسی کے لیے ٹیم کے دروازے بند نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اسد شفیق اپنی آخری 15 اننگز میں 510 رنز ہی بناسکے ہیں، جس میں سے دورہ انگلینڈ پر صرف 67 رنز بنائے۔ہیڈ کوچ نے کہا کہ اسد شفیق ایک تجربہ کار بلے باز ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے سرفراز احمد کی طرح اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس حاصل کر سکیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ بابر اعظم جب سے کپتان بنے ہیں تو ان کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ دباؤ لینے کے بجائے ذمے داری لے رہے ہیں، اس چیز کو دیکھتے ہوئے اُمید ہے کہ وہ ٹیسٹ کپتان کی ذمے داری بھی اچھے طریقے سے نبھائیں گے اور ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔قیادت اور ٹیم میں تبدیلی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے یوٹرن نہیں لیے، ہم محدود تعداد میں کھلاڑیوں کو منتخب کر سکتے تھے تاکہ شاہینز اور قومی ٹیم دونوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔انہوں نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے بابر کو کپتان بنایا تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں اور انہوں نے دباؤ کو جھیلتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لہٰذا یہ تینوں فارمیٹ میں انہیں کپتان بنانے کا مناسب وقت ہے۔انہوں نے اسکواڈ سے شعیب ملک اور محمد عامر کو ڈراپ کرنے کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کی جگہ نوجوان کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ آئندہ چند سالوں میں پانچ بڑے ایونٹس پر مبنی شیڈول کو سامنے رکھ کر کیا ہے جبکہ محمد حفیظ اور وہاب ریاض کو اسکواڈ میں برقرار رکھنے کی وجہ ان کی کارکردگی میں تسلسل ہے۔

اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کے نام درج ذیل ہیں۔

بابراعظم (کپتان)، محمد رضوان، شاداب خان، اظہر علی، سرفراز احمد (وکٹ کیپر)، محمد حفیظ، فواد عالم، عابد علی، عبداللہ شفیق، فخر زمان، امام الحق، شان مسعود، ذیشان ملک، دانش عزیز، حیدر علی، حارث سہیل، حسین طلعت، عمران بٹ، افتخار احمد، خوشدل شاہ، روحیل نذیر (وکٹ کیپر)، عماد وسیم، یاسر شاہ، عثمان قادر، ظفر گوہر، عماد بٹ، فہیم اشرف، حارث رؤف، محمد عباس، محمد حسنین، محمد موسیٰ، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، سہیل خان اور وہاب ریاض۔

اسکواڈ میں شامل کھلاڑی قومی کرکٹ ٹیم اور پاکستان شاہینز دونوں کے لیے دستیاب ہوں گے جہاں روحیل نذیر پاکستان شاہین کے کپتان اور حیدر علی نائب کپتان ہوں گے۔پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین 3 ٹی20 اور 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز 18 دسمبر سے 7 جنوری تک جاری رہے گی جبکہ اس دوران پاکستان شاہینز کو 2 چار روزہ اور 4 ٹی20 میچز کھیلنے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں