1999 کے بعد کراچی میں سرکلر ریلوے کا پہلا ازمائشی سفر طے

کراچی میں سرکلر ریلوے کے تحت چلنے والی ٹرین نے جمعرات 12 نومبر کو 21 سال بعد اپنا پہلا آزمائشی سفر طے کیا۔ اس سے قبل ریل گاڑی کو سال 1999 میں مالی خسارے کے باعث بند کردیا گیا تھا۔

ریل گاڑی نے اپنی آزمائشی سفر کے دوران 30 کلو میٹر فی گھنٹہ کے رفتار سے سٹی اسٹیشن کراچی سے اورنگی ٹاؤن تک کا سفر طے کیا۔ خراب ریلوے ٹريک کے باعث ٹرين نے 2 گھنٹے ميں فاصلہ طے کيا۔ریلوے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرین 50 سے 55 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ قبل ازیں پاکستان ریلویز کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے تحت چلنے والی ٹرین کو جزوی طور پر پیر 16 نومبر سے بحال کردیا جائے گا۔پہلے فیز میں 4 ٹرینیں لانڈھی اسٹیشن سے اورنگی ٹاؤن تک چلائی جائیں گی۔ پہلی ٹرین صبح 7 بجے، دوسری صبح 10 بجے، تیسری دوپہر 1 بجے اور چوتھی ٹرین شام 4 بجے اسٹیشن سے روانہ ہوگی۔

کراچي سرکلر ريلوے سے شہر میں ٹرانسپورٹ اور سفر کرنے والوں کے مسائل کسی حد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ٹرین کا ٹریک مکمل ہونے کے بعد اس کا سفر ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہوگا، جو گلستان جوہر سے گلشن اقبال اور وہاں سے ناظم آباد سے ہوتی ہوئی یاسین آباد اور پھر لیاقت آباد پہنچے گی۔یہاں سے ٹرین کی اگلی منزل منگھوپیر ، پھر سائٹ کا علاقہ ہوگی۔ جس کے بعد ٹرین بلدیہ سے لیاری، میٹھادر ٹاؤر، سٹی اسٹیشن اور پھر پی آئی ڈی سے ہوتی ہوئے کراچی کینٹ اسٹیشن پہنچے گی۔یہ ٹرین شارع فیصل کے ساتھ بنے ٹریک پر چلے گی، جو چنیسر گوٹھ، شہید ملت اور کارساز کا راستہ بھی طے کرے گی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاق اور سندھ حکومت کو کراچی سرکلر ریلوے رواں سال ہی بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستان ریلویز نے منگل 10 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ پیر 16 نومبر سے کے سی آر کو مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔رواں سال یکم ستمبر کو پاکستان ریلویز نے کے سی آر کیلئے بنائی گئی بوگیوں کی پہلی بار نمائش کی تھی، جب کہ 5 نومبر کو وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کراچی سرکلر ریلوے کیلئے چین کے تعاون سے تیار کی گئی بوگیوں کا جائزہ لیا تھا۔

karachi circular railway

اپنا تبصرہ بھیجیں