بھارتی ہندو انتہاءپسند قانون ،مسلمان لڑکے کی ہندو لڑکی کے ساتھ شادی رکوا دی

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سیکولرازم کا راگ الاپنے والے بھارت میں پولیس نے ایک مسلمان لڑکے کی ہندو لڑکی کے ساتھ شادی زبردستی رکوا دی۔ ویب سائٹ scroll.in کے مطابق یہ شادی بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر لکھنو میں لڑکے اور لڑکی کے والدین کی رضامندی سے ہو رہی تھی لیکن پولیس نے شادی کی تقریب پر دھاوا بول کر شادی روک دی۔

اترپردیش کے وزیراعلیٰ ادتیہ ناتھ کی طرف سے انتہاءپسند ہندو نوجوانوں پر مشتمل ایک تنظیم بنائی گئی ہے جس کا نام ’ہندو یووا واہنی‘ رکھا گیا ہے۔ پولیس نے یہ شادی اسی تنظیم کے کارندوں کے کہنے پر رکوائی۔ ان کارندوں کا کہنا تھا کہ ’یہ شادی ’لو جہاد‘ (Love Jehad)کا شاخسانہ ہے۔ پولیس کی طرف سے لڑکے اور لڑکی کو شادی سے پہلے لکھنو¿ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت لینے کا حکم دے دیااور کہا کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر ایک مسلمان لڑکی ہندو لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔

انڈیا نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں آسڑیلیاکو شکست دے دی
پیرا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او تریلوکی سنگھ کا کہنا تھا کہ ”لڑکے لڑکی کی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق ہونے جا رہی تھی اور لڑکے لڑکی کے علاوہ دونوں کے گھر والے بھی اس پر رضامند تھے تاہم ہندو یووا واہنی کے نمائندوں کو اس پر اعتراض تھا۔ جس کی وجہ سے ہم نے شادی رکوا دی۔ “
india hundu inteha pasand marrige rule

اپنا تبصرہ بھیجیں