ٹرمپ اور امریکہ اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے، ٹرمپ کے حامیوں کا پارلیمنٹ پر حملہ ،کرفیو نافذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل اور امریکی ایوان پر دھاوا بول دیا اور سیکیورٹی حصار توڑتے ہوئے عمارت کے اندر داخل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد رکاوٹیں اور سیکیورٹی حصار توڑتے ہوئے واشنگٹن میں واقع کیپیٹل ہل کی عمارت کے اندر گھسی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جبکہ مظاہرین کی جانب سے بھی پولیس پر خارش والا اسپرے کیا پولیس چیف نے بتایا کہ کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے مظاہرین سے جھڑپوں کے دوران کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک خاتون گولی لگنے کے باعث زخمی ہوئیں زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ہنگامہ آرائی کرنے والے 52 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، گرفتار افراد پر کرفیو کی خلاف ورزی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات ہیں

ڈیموکریٹ کمیٹیوں کے ہیڈ کوارٹر سے دو پائپ بم بھی برآمد ہوئے۔امریکی حکومت سے کرفیو نافذ کرنے اور فوج کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم امریکی محکمہ دفاع نے فوج کو طلب کرنے کا انتظامیہ کا مطالبہ مسترد کر دیا۔دنیا کی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست متحدہ ہائے امریکا میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے پرتشدد مظاہرے جاری ہیں ٹرمپ کے حامیوں نے احتجاج کے دوران کانگریس پر چڑھائی کردی۔ آج صدارتی الیکٹرول کالج کی ووٹنگ ہونا تھی، اور لیکٹرول ووٹنگ کے بعد بائیڈن کی جیت کا باضابطہ اعلان کیا جانا تھا۔صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ کیپیٹل ہل کی عمارت کو بھی لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
trumpt us jobaiden amrican establishment

اپنا تبصرہ بھیجیں